دھنباد 20؍جولائی(ایس او نیوز/ ایجنسی ) ریاست جھارکھنڈ کے دھنباد گاؤں میں ایک ہجوم نے دماغی طور پر معذور افروز کو مبینہ طور پر گائے چوری کرنے کے الزام میں بے رحمی کے ساتھ زدکوب کرنے کی واردات پیش آئی ہے بتایا گیا ہے کہ ایک ہجوم نے اس معذور نوجوان کو درخت سے باندھ کر اُس کی بری طرح پیٹائی کی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ہجوم نے غلطی سے واسائی پور کے ساکن 26سالہ افروز کو مبینہ طور پر تین گائیوں کے ساتھ دیکھنے کے بعد اس کو گائے کا چور سمجھا۔جس کی تصدیق ایسٹ باسورائے اوپی انچار ج پریم چندرا ہنسڈا نے بھی کی ہے۔
پولس نے بتایا کہ ’’ نہ تو وہ گائیوں کی تسکری کرنے والا تھا اور نہ ہی گائے چور‘‘۔انہوں نے مزیدکہاکہ گاؤں والوں کو اس معاملے میں کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی۔پولیس کے مطابق افروز کے سر‘ پیٹ‘ پیر او رگردن پر زخم آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افروز دماغی طور پر معذور ہے اور اس کا علاج رانچی نیرو سائیکیاٹری اور الائیڈ سائنس انسٹیٹوٹ میں کیاجارہا ہے۔
انہوں نے مزیدکہاکہ حملہ آور گاؤ رکشک نہیں تھے۔واقعہ کے بعد پولیس کی نظر سوشیل میڈیا پر ہے تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی روک تھام کی جاسکے۔یہا ں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ این ڈی اے نے سال 2014میں اپنی حکومت بنائی اور گائے ذبیحہ اور تسکری ان کا سب سے اہم موضوع تھا۔
خیال رہے کہ گئو رکھشک کے نام پر حملوں کی وارداتوں میں جھارکھنڈ ایک واحد ریاست ہے جہاں پر ایک ماہ میں تین واقعات پیش آئے ہیں اور یہاں مبینہ طور پر گائے کی چوری اور تسکری کے نام پر مسلمانوں پر حملے کئے گئے ہیں۔